فیروز مندی
معنی
١ - کامیابی، فتح مندی۔ "یہ امر علاؤالدین کے عین عروج و اقبال اور اقبال اور فیروز مندی کے زمانہ میں تصور میں آنا محال ہے۔" ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ٩٥ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ 'صفت' فیروز کے بعد فارسی ہی سے ماخوذ لاحقۂ کیفیت 'مندی' لانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٣٣ء کو "مفتاح الافلاک" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کامیابی، فتح مندی۔ "یہ امر علاؤالدین کے عین عروج و اقبال اور اقبال اور فیروز مندی کے زمانہ میں تصور میں آنا محال ہے۔" ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ٩٥ )